Posts

افکار علوی کی نظم "مرشد"

مدت کے بعد لوٹ کے آیا ہوں گاؤں میں

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی

مست آنکھوں کی بات چلتی ہے

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے

زندہ ہے شہید تو ماتم منانے سے ڈر لگتا ہے

تو پھر وہ عشق، یہ نقد و نظر برائے فروخت

درد کو دل میں اتارنے سے پہلے

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی، کچھ ترا خیال بھی